دل کی بستی میں ایک چراغ جلا
یادوں کی راہ میں رنگ بھرا
رات کی تنہائی میں ستارے گرے
خوابوں کا سلسلہ دوبارہ چلا
ہر لمحہ ہے گواہ تیری یاد کا
دن بھی تیرا، رات بھی تیرا
غم کی دھوپ میں راحت کا سایہ
تیرے پیار کا ہر پل سہارا ملا
کاش تجھے میں دل کی بات سناؤں
خاموشی میں کچھ راز اشارہ ہوا
چاہت کی اس لہر میں ڈوب جاؤں
پیار کا سمندر ہر بار ملا
0 Comments
Givt your Suggestion in comment